Tuesday, 31 January 2017

چور کی طلاق

چور کی طلاق ! پڑھیے اگر پسند آئے تو شیئر ضرور کریں
..
دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک صاحب کا موبائل چوری ہوگیا ...

دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھکے ہارے صاحب بہادر نے جونہی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو اگلا منظر دیکھ کر چونکے بنا نہ رہ سکے ...

گھر میں ساس اور سسر ... اپنی بیٹی کا سامان پیک کئے ان کے منتظر تھے ... بیگم اور ساس کی آنکهیں رو رو کر سرخ ہوچکی تهیں ... جبکہ ان کے داخل ہونے پر سسر کے ماتھے پر نفرت کی لکیریں بهی عیاں ہونے لگی تهیں ...

"کہاں لیکر جارہے ہیں میری بیوی کو ؟؟ خیریت تو ہے ؟؟ "

انہوں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دریافت کیا تو سسر نے آگے بڑھ کر ان کی بیوی کا موبائل ان کے سامنے کردیا ....

"میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" ....

بیوی کو ان کے نمبر سے میسج آیا تھا ...

میسیج دیکھ کر صاحب نے ایک ٹهنڈی آہ بھری اور بتایا کہ ان کا موبائل تو صبح سے چوری ہوگیا تھا ....

انہوں نے اپنی جیبیں الٹ کر سب کو یقین دلایا ... تو ان کی بیگم اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگیں ... اور سسر صاحب نے اپنی ٹانگیں بیٹھے بیٹھے دراز کرلیں ....

"لیکن چور نے میری بیوی کو طلاق کا میسیج کیوں کیا ؟؟؟"

الجھن کے مارے انہوں نے اپنا نمبر ڈائل کیا تو چور نے فون اٹھایا ... صاحب چهوٹتے ہی پهٹ پڑے ... " کمینے انسان !! فون چرایا سو چرایا ... میری بیوی کو طلاق دینے کیا ضرورت تھی ... ؟؟

چور نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور کہنے لگا ...

"دیکھئے صاحب ! صبح ... جب سے آپ کا فون چرایا ہے ... مجھے آپ کی بیوی کے چھتیس میسیج موصول ہو چکے ہیں ...
کہاں ہو ؟؟؟ .... کیا کر رہے ہو .؟؟ .... کب آؤ گے ؟؟ .... آتے ہوئے یہ لے آنا ... اور ہاں یہ بھی ... !! .... جلدی آنا !!! .... دیکھو فلاں چیز ختم ہوگئی ہے !!! ... میں پاگل ہوگیا ... میں نے سوچا سم نکال کر پھینک دوں ...

لیکن پهر خیال آیا کہ جہاں آپ نے مجھے اپنے موبائل کی صورت میں گفٹ دیا کیوں نہ میں بھی آپ کی خیر خواہی میں اسے طلاق دے دوں ... اس لئے میں نے اسے طلاق کا میسیج بھیج دیا ...

Admin

Muneeb Umair Saqi

Saturday, 28 January 2017

Congratulations to Mr. Sheraz Ahmad Aqeel

جناب شیراز احمد عقیل صاحب کو KM PHOTOS GROUP میں خوش آمدید کہتے ہیں اور ایڈیٹر منتخب ہونے پر پوری ٹیم کی طرف سے مبارکباد پیش کرتے ہیں..
منجانب:
منیب عمیر ساقی
ایڈمن. سینئر ایڈوائزر &  فوٹو ایڈیٹر

Saturday, 21 January 2017

وہ نوکرانی نہیں تھی........ میری ماں تھی!

ایک بار ضرور پڑهیے پسند آئے تو شیئر کرنا نہ بھولیے

وہ نوکرانی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ماں تھی !
ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ
میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگے:
’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے:
’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔
مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔
باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔
پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔
مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔
مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔ ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔
جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔ اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔
چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔
میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟
ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔ وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔
اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔
میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔ اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔
ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔
ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔
ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘ یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔
اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔
جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ آمین.

KM Productions

KM Photos

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

KM Photos Muneeb Umair Saqi

KM Photos

KM Photos

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photos

Muneeb Umair Saqi

KM Photography Presentation

Muneeb Umair Saqi

Turn To Allah Before You Return To Allah

www.facebook.com/kmphotography.net

Between teacher and student

www.facebook.com/kmphotography.net

Art is everything


For online edition contact us never forget to contact with KM Photos for best photo edition join us on our official facebook page. www.facebook.com/kmphotography.net

KM Productions

Edit by Muneeb Umair Saqi
Contact only imo 0346-3135235
Get in touch with KM Photos
www.facebook.com/kmphotography.net

Monday, 2 January 2017

وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھی امانتیں کئی سال کی

ھے منیر تیری نگاہ میں
کوئی بات گہرے ملال کی

”منیر نیازی"

غزل

جینے کے ان کے ساتھ  بہانے چلے گئے
اٹھ کر گئے وہ یوں کہ زمانے چلے گئے

احساس جن کے ہونے سے ہونے کا تھا کبھی
ان بے گھروں کے سارے ٹھکانے چلے گئے

کرنا یہاں پہ کیا تھا، مگر کر رہے ہیں کیا
ہم کیا کریں کہ اپنے سیانے چلے گئے

جو پاس تھے تو قصہ کیا دلفریب تھا
کھولی جو اب کتاب فسانے چلے گئے

رونق تو چار سو ہے مگر مفلسوں کو کیا
خالی ہیں ان کی جیبیں خزانے چلے گئے

تپتا ہے آفتاب تو جلتی ہے یہ زمین
موسم بھی ان کے پیچھے سہانے چلے گئے

حاسد سمجھ نہ لیجے, یونہی سوچتا ہوں میں
اب وہ نہ جانے کس کو رجھانے چلے گئے

ابرک محبتوں میں نہ دعوے کیا کریں
کیوں خود نہ آپ ان کو  منانے چلے گئے

..............................................

Muneeb Umair Saqi

Muneeb Umair Saqi