دل کو دہلا دینے والا واقعہ ایک فقیر جو اکثر میں گھر روٹی لینے آتا تھا. اس کے دو بیٹے تھے. بیوی کو ٹی بی کی بیماری تھی. اس لیے دونوں بیٹوں کو بھی ٹی بی کی بیماری تھی. خاندان کے بڑے چشم و چراغ کا مناسب علاج نہ ہونے پر ٹی بی، کینسر میں تبدیل ہو گئی. رفتہ رفتہ کینسر لاسٹ سٹیج پر پہنچ گیا اور 1 نو جوان لڑکا 17 سال کی عمر میں موت کی آغوش میں چلا گیا. باپ بیچارہ سڑکوں سے کاغذ چُن کر بیچ کر دن کے 40 سے 50 روپے کما لیتا. ہفتے میں دو چار مرتبہ میرے گھر کا بھی رخ کرتا. لیکن میں حسبِ معمول ہی اس کی مدد کر پاتا. فقیر کا چھوٹا بیٹا جو صحت مند اور ذہین تھا اس کی پڑھائی کا ذمہ میرے والدین نے لیا. میٹرک +Aگریڈ کے ساتھ پاس کیا. مگر افسوس میٹرک کے بعد چھوٹا بیٹا بھی ٹی بی کی بیماری کا شکار ہو گیا. لیکن ہمت نہیں ہاری میٹرک کے بعد اس نے الیکٹریکل انجینئرنگ کا ڈپلومہ حاصل کرنے کا عزم کیا. میرے والدین کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا. چار سال کا ڈپلومہ تھا جس میں سے تین سال گزر گئے. جب ساڑھے تین سال گزرے تو چھوٹے بیٹے کی بھی حالت کافی سنجیدہ ہو گئی. رفتہ رفتہ پڑھائی بھی بڑھتی گئی اور بیماری بھی. آخر کار ڈپلومہ بھی مکمل ہو گیا اور ٹی بی کا مرحلہ بھی. رزلٹ کا دن تھا. بیٹے نے یہ ڈپلومہ بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا اور ضلع میں دوسری پوزیشن حاصل کی. جب گھر آیا تو والدین بہت خوش ہوئے اور میرے والد صاحب کا شکریہ ادا کیا. بیٹا انجینئر بن گیا. ایک سال بعد دوسرا بیٹا بھی کینسر کا شکار ہو گیا. اور 13 نومبر 2016 بروز اتوار کو 23 سال کی عمرمیں موت کے گھر ٹھکانہ بنا گیا.
ایک ماں کی گود اجڑ گئی. باپ بیٹے کا صدمہ برداشت نہ کر سکا اور 15 نومبر 2016 بروز منگل کو 68 سال کی عمر میں موت کو گلے لگا گیا. ماں اتنا بڑا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی. شہر کے نامور شخصیات کے فیصلے کے بعد ماں کو ایدھی سنٹر کے حوالے کر دیا. آج ہنستا مسکراتا ہوا گھر محلے کا کوڑا دان بن گیا. اِن مرحومین کو ان کے آبائی شہر منگوال ضلع گجرات میں دفن کر دیا گیا تھا.
(از قلم:منیب عمیر ساقی)
منگوال ضلع گجرات کا سچا واقعہ
Wednesday, 16 November 2016
دل کو دہلا دینے والا واقعہ ایک ماں کی گود اجڑ گئی
Wednesday, 9 November 2016
جاہل کیا جانے دین کی قیمت کیا ہے
ایک استاد تھا وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔موچی نے کہا :اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تونہیں ہیں۔موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سُنا کر کہا:لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت
کچھ بھی نہیں۔استاد عقل مند تھے: طالبِ علم سے کہا:اچھا تم ایسا کرو میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔
وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا:
اس موتی کی قیمت لگاؤ۔اس نے کہا کہ تم اس کے بدلےیہاں سے دو تین لیموں اُٹھا لو۔اس موتی سے میرے بچے کھیلیں گے۔وہ بچہ استاد کے پاس آیا اور کہا: اس موتی کی قیمت دو یا تین لیموں ہے۔استاد نے کہا:اچھا اب تم اس کی قیمت سُنار سے معلوم کرو۔وہ گیا اور پہلی ہی دکان پر جب اس نے موتی دکھایا تو دکان دار حیران رہ گیا۔اس نے کہا اگر تم میری پوری دکان بھی لے لو تو بھی اس موتی کی قیمت پوری نہ ہوگی۔طالبِ علم نے اپنے استاد کے پاس آکر ماجرا سُنایا۔ استاد نے کہا:بچے! ہر چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے۔ دین کی قیمت اللہ کی منڈی میں لگتی ہے۔اس قیمت کو اہلِ علم ہی سمجھتے ہیں۔ جاہل کیا جانے دین کی قیمت کیا ہے … !!
-
Muneeb Umair Saqi Contact Number 03463135235 Muneeb Umair Saqi Phone Number 03463135235 Muneeb Umair Saqi Mobile Number 034...